کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 265

کلامِ طاہر — Page 185

نظم نمبر ۱۸ بلائے ناگہاں اک نت نیا مولا نا آتا ہے۔ہر مولانا فی ذاتہ بلائے ناگہاں ہے۔وہ کوئی خاص خاص مولا نا نہیں جو بلائے ناگہاں ہوں۔بلکہ ہر مولا نا جب آتا ہے بلائے ناگہاں کی طرح ہی آتا ہے۔کبھی ایک ہی بار بار آتا ہے بھی نت نیا۔میرے ذہن میں نت نئے مولانا کے آنے کا تصور تھا۔بن کر آنے کا محاورہ میرے دل کی بات ظاہر نہیں کرتا۔میں تو ہر مولوی کو ہی بلائے ناگہاں سمجھتا ہوں۔اس لئے اسے اسی طرح رہنے دیا جائے 'نت نیا “ کہہ کر تو ان کی روزانہ بڑھتی ہوئی تعداد کی طرف اشارہ مقصود ہے اور جتنے بھی آتے ہیں ہمیشہ بلائے ناگہاں ہی ثابت ہوں گے۔66 ☆ (مکتوب ۹۳-۱-۱۶ صفحه ۲۷،۲۶) کچھ لوگ گنوا بیٹھے دن کو جو یار کما یا ساری رات۔آپ کی تجویز یہ ہے کہ 'لوگ گنوا بیٹھے سب دن کو جو بھی کمایا ساری رات۔لیکن اس میں عمومیت کی آگئی ہے کہ جو اچھا برا کمایا وہ دن کو گنوادیا۔جبکہ جو مضمون میرے پیش نظر ہے اس میں خدا کمانے اور ساری رات اس کی عبادت میں گزارنے کا مضمون ہے۔اور مطلب یہ ہے کہ اگر انسان راتیں تو ذکر الہی میں گزارے اور دن بھر دنیا کے پیچھے بھاگتا پھرے تو یہ اچھا عمل نہیں۔اگر یار کمانے کے اظہار بیان پر اعتراض ہے۔تو یہی محاورہ تو اس شعر میں میری جان ہے اور شعر کی بھی۔یار یونہی نہیں مل جاتے ، کمانے پڑتے ہیں۔“ جو آنکھیں مند گئیں رو رو کر۔اور گھل گھل کر جو چراغ بجھے مكتوب ۱۲۔۱۔۹۳ صفحه ۲۰) اس مصرع کے بارہ میں آپ کا مشورہ درست ہے اور جو آنکھیں مندھ گئیں رو رو کر زیادہ بہتر ہے لیکن پھر اس سے اگلے مصرع کا پہلا جزو آن پرختم ہو اور دوسرا حصہ اس طرح شروع 31