کلامِ طاہر — Page 184
ہوئے۔دو مقامات ایسے بھی ہیں جہاں ڈھنگ سے توجہ نہ دلا سکنے کی وجہ سے وضاحت موصول ہوئی۔مثلاً مندرجہ بالا شعر میں کھنڈر کے ان کی آواز نون غنہ ہوتی تو بہتر تھا۔خوف اس قدر مسلط تھا کہ نہ جانے کیا لکھ دیا۔مناسب وضاحت نہ کی جواب موصول ہوا۔وو دوسرے خط میں جو آپ نے کھنڈر لفظ پر نظر ثانی کے لئے بڑی ہی ملائمت سے توجہ دلائی ہے اس کے لئے معذرت کی تو کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن آپ نے وضاحت نہیں کی کہ اس پر اعتراض کیا ہے۔مجھے ابھی سمجھ نہیں آئی کہ لفظ کھنڈر پر اعتراض کیا ہے۔اگر یہ وہم ہے کہ کبھی کھنڈر محل نہیں بنائے گئے تو یہ درست نہیں۔تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ بار ہا کئی شہر اجڑے اور پھر آباد کئے گئے اور جومحل کبھی آباد تھے ان کے کھنڈروں کو آباد کیا گیا۔موہنجودڑو کے متعلق یہی ذکر آتا ہے۔ویسے بھی دنیا میں یہی ملتا ہے کہ بعض محل ویران ہوئے اور پھر ان کھنڈرات کو آباد کیا گیا۔اگر کوئی اور بات ہے تو بے تکلفی سے لکھیں۔قم کی طرف توجہ دلانا تو قابل تحسین ہے۔بے شک مجھے بتائیں کیا کمزوری نظر آ رہی ہے اور اگر اس کا کوئی اچھا حل نظر آئے او وہ بھی تجویز کر دیں۔غالباً دتی والے لفظ کھنڈر پڑھتے ہیں۔اگر یہ بات ہے تو شعر یوں کر لیں۔جو کھنڈر تھے محل بنائے گئے اور محلوں کے کھنڈرات بنے مكتوب ١١ / دسمبر ۱۹۸۹ء) ☆۔۔30