کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 265

کلامِ طاہر — Page 69

کرتے تھے آ آ کے بیرے ، پنکھ پکھیرو شام سویرے پھولوں اور پھلوں سے بوجھل ، بستاں کا ایک ایک شجر تھا اُس کے سُروں کا چرچا جا جا ، دیس بدیس جا ، دیس بدیس میں ڈنکا باجا اُس بستی کا پیتم را جا ، کرشن گٹھیا مرلی دھر تھا چاروں اور بجی شہنائی بھیجنوں نے اک دُھوم مچائی رت بھگوان مکن کی آئی ، پیتم کا درشن گھر گھر تھا گوتم بدھا بندھی لایا ، سب رشیوں نے درس دکھایا عیسی اُترا مہدی آیا جو سب نبیوں کا مظہر تھا مہدی کا دلدار محمد نور نگه سرکار محمد نبیوں کا سردار جس کا وہ منظور نظر تھا 6 آشاؤں کی اُس بستی میں ، میں نے بھی فیض اُس کا مجھ پر بھی تھا اُس کا چھایا ، جس کا میں ادنی چاکر تھا اتنے پیار سے کس نے دی تھی ، میرے دل کے کواڑ یہ دستک رات گئے میرے گھر کون آیا ، اُٹھ کر دیکھا تو ایشر تھا عرش سے فرش پہ مایا اُتری ، روپا ہو روپا ہو گئی ساری دھرتی ٹ گئی گلفت چھا گئی مستی۔وہ تھا میں تھا من مندر تھا 69