کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 265

کلامِ طاہر — Page 70

پر میری جان نچھاور ، اتنی کرپا اک پاپی پر جس کے گھر نارائن آیا ہ کیڑی بھی کمتر تھا - وہ رب نے آخر کام سنوارے ، گھر آئے پرہا کے مارے آ دیکھے اُونچے مینارے ، نُورِ خدا تا حد نظر تھا مولا نے وہ دن دکھلائے ، پریمی رُوپ نگر کو آئے ساتھ فرشتے پر پھیلائے " ، سایہ رحمت ہر سر پر تھا عشق خدا مونہوں پر دستے “ پھوٹ رہا تھا نور۔نظر سے اکھین سے کے پیت کی برسے ، قابل دید ، ہر دیدہ ور تھا لیکن آہ جو رستہ تکتے جان سے گزرے تجھ کو ترستے کاش وہ زندہ ہوتے جن پر ، ہجر کا اک اک پل دُوبھر تھا کو پکارا ، آس نہ ٹوٹی ، دل نہ ہارا آخر دم تک تجھ سدا سہاگن مصلح عالم باپ ہمارا ، پیکر صبر و رضا بستی ، جس میں پیدا ہوئی وہ ہستی رہے یہ رہبر تھا جس سے نور کے سوتے پھوٹے ، جو نوروں کا اک ساگر تھا ہیں سب نام خدا کے سُندر واہے گرو ، الله اكبر سب 6 فانی ، اک وہی ہے باقی ، آج بھی ہے جو کل ایشر تھا 70 (جلسه سالانه قادیان (۱۹۹۱ء)