کلامِ طاہر — Page 55
یہ دل نے کس کو یا د کیا یہ دل نے کس کو یاد کیا ، سپنوں میں یہ کون آیا ہے جس سے سپنے جاگ اٹھے سینے جاگ اٹھے ہیں خوابوں نے نور کمایا ہے گل بوٹوں ، کلیوں ، پتوں سے ، کانوں سے خوشبو آنے لگی اک عنبر بار تصور نے یادوں کا چمن مہکایا ہے گل رنگ شفق کے پیراہن میں قوس قزح کی پینگوں اک یاد کو جھولے کو جھولے دے د۔دے دے کر پگلے نے دل بہلایا ہے دیکھیں تو سہی دن کیسے کیسے حُسن کے رُوپ میں ڈھلتا ہے بدلی نے شفق کے چہرے پر جس رُخ دیکھیں ہر من موہن تیرا مکھڑا ہی تکتا کالا گیئو ہے لہرایا ہے ہر اک محسن نے تیرے حسن کا ہی احسان اُٹھایا ہے 55