کلامِ طاہر — Page 54
چاند نے پی ہوئی تھی رات ڈول رہی تھی کائنات ، نور کی کے اُتر رہی تھی ، عرش گئی بزم شش جہات ور و میکده ނ ، جیسے کل پڑ۔پڑے تجليات چھوڑ کر بند نکل نکل حرم کو چھوڑ کر حال دل سُنا پڑے مبر کا درس ہو چکا اب ذرا حال کہتے ہیں تجھ کو ناصحا چین نہ ایک پل پڑے آنکھ میں پھانس کی طرح ہجر کی شب اٹک گئی اے میرے آفتاب آ رات ملے تو گل پڑے کون ره فراق سے کوٹ کے پھر نہ آ سکا کس کے نقوش منتظر راه خدا میں منزل مرگ ره گئے ہے محل پڑے مچل گئے ہم بھی رُکے رُکے سے تھے ، اذن ہوا تو چل پڑے (61990) 54