کلامِ طاہر — Page 56
میرے دل کے افق پر لاکھوں چاند ستارے روشن ہیں لیکن جو ڈوب چکے ہیں اُن کی یادوں نے منظر دھندلایا ہے جب مالی دارغ جدائی دے مُرجھا جاتے ہیں گل بوٹے فُرقت نے کیسے پھول سے چہروں سے چہروں کو گملا یا دیکھیں ہے یہ کون ستارہ ٹوٹا جس سے سب تارے بے نور ہوئے کس پندرما نے ڈوب کے اتنے چاندوں کو گہنایا ہے کیا جلتا ہے کہ چمنیوں سے اُٹھتا ہے دُھواں آہوں کی طرح اک درد به داماں سرمئی رت نے سارا افق گجلایا ہے کوئی احمدیوں کے امام سے بڑھ کر کیا دنیا میں غنی ہوگا ہیں سچے دل اس کی دولت اخلاص اس کا سرمایا ہے اے دشمنِ دیں! ترا رزق فقط تکذیب کے تھوہر کا پھل ہے شیطاں نے تجھے صحراؤں میں اک باغ سبز دکھایا ہے ہے میں ہفت افلاک کا پنچھی ہوں ، مرا نور نظر آکاشی تو اوندھے چلنے والا اک والا اک بے مُر بے مُرشد چوپایہ ہے بانٹ کے دُکھ مرا تن من دھن اپنا بیٹھے سکھ کے ساتھی تھے ہی پرائے کون گیا ، کون آیا ہے ساتھی 56