کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 265

کلامِ طاہر — Page 17

موسیٰ پکٹ کہ وادی ایمن اُداس ہے پیغام آرہے ہیں کہ مسکن اُداس ہے طائر کے بعد اس کا نشیمن اداس ہے اک باغباں کی یاد میں سرو و سمن اُداس اہل چمن فسردہ ہیں گلشن اُداس ہے مرگیس کی آنکھ نم ہے تو لالے کا داغ اُداس غنچے کا دل خیز میں ہے تو سوسن اُداس ہے ہر موج خون گل کا گریباں ہے چاک چاک ہر گل بدن کا پیرہن تن اُداس ہے آزرده گل بہت ہیں کہ کانٹے ہیں شاد کام برق تپاں نہال، کہ خرمن اُداس ہے سینے پہ غم کا طور لئے پھر رہا ہے کیا موسیٰ پکٹ کہ وادی ایمن اُداس ہے ئس نامہ بر ، اب اتنا تو جی نہ دُکھا کہ آج پہلے ہی دل کی ایک اک دھڑکن اُداس ہے بن باسیوں کی یاد میں کیا ہوں گے گھر اُداس جتنا کہ بن کے باسیوں کا من اُداس ہے مجنوں کا دشت اُداس ہے صحنِ چمن اُداس صحرا کی گود ، لیلیٰ کا آنگن اُداس ہے چشم بریں میں آ تو ہے ہو مرے حبیب کیوں پھر بھی میری دید کا مسکن اُداس ہے 17