کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 265

کلامِ طاہر — Page 4

اے شاہ مکی و مدنی سید الوری بزبان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام) اس کی شان نزول یہ ہے کہ رویا میں ایک شخص کو دیکھا کہ انتہائی درد میں ڈوبی ہوئی نے کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ایک نعت اس انداز سے پڑھ رہا ہے گویا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سامنے ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے آپ کے حضور حال دل پیش کیا جارہا ہو۔آپ کا وہ کلام تو اٹھنے پر لفظاً لفظا میرے ذہن میں نہیں تھا مگر اس کے ٹیپ کا مصرعہ ع اے میرے والے مصطفیٰ خوب ذہن پر نقش ہو گیا کیونکہ وہ اسے بار بار ایک خاص کیفیت میں ڈوب کر د ہرا تا تھا۔پس اسی روز گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نمائندگی میں اس اثر کو اپنے لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کی جو اس نعت کو سنتے ہوئے دل پر نقش ہو گیا۔اگر چہ معین الفاظ کی صورت میں نہیں ڈھلا۔اور کوشش یہی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعتوں میں سے ہی کچھ مضمون اخذ کر کے پیش کیا جائے اور جہاں ممکن ہو آپ ہی کے اشعار زینت کے طور پر جود یے جائیں۔اے شاہِ مکی و مدنی ، سید الوری تجھ سا مجھے عزیز نہیں کوئی دوسرا تیرا غلام در ہوں ، ترا ہی اسیر عشق تو میرا بھی حبیب ہے ، محبوب کبریا