کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 265

کلامِ طاہر — Page 3

: ☐ مرزائے غلام احمد تھی جو بھی متاع جاں کر بیٹھا نثار اُس پر۔ہو بیٹھا تمام اُس کا دل اُس کی محبت میں ہر لحظہ تھا رام اُس کا اخلاص میں کامل تھا وہ عاشق تام اُس کا اس دور کا یہ ساقی ، گھر سے تو نہ کچھ لایا نے خانہ اس کا تھارئے اُس کی تھی، جام اُس کا سازندہ تھا یہ، اس کے۔سب ساجھی تھے میت اُس کے و ھن اس کی تھی ، گیت اُس کے لب اس کے، پیام اُس کا اک میں بھی تو ہوں یا رب ، صیدہ دام اُس کا دل گا تا ہے گن اس کے ملب چہیتے ہیں نام اُس کا آنکھوں کو بھی دکھلا دے، آنالپ بام اُس کا کانوں میں بھی رس گھولے، ہر گام خرام اُس کا خیرات ہو مجھ کو بھی۔اک جلوہ عام اُس کا پھر یوں ہو کہ ہو دل پر ، الہام کلام اُس کا اُس بام سے نور اُترے نغمات میں ڈھل ڈھل کر نغموں سے اُٹھے خوشبو ، ہو جائے سُرود عنبر 28 28 28 یہ نعت (192ء میں لکھی تھی۔بعد میں اس میں بعض اضافوں اور تبدیلیوں کے ساتھ پہلے ۱۹۹۳ء کے جلسہ سالانہ انگلستان یں اور پھر جلسہ سالانہ جرمنی میں پڑھی گئی۔