کلامِ طاہر — Page 5
! تیرے جلو میں ہی میرا اٹھتا ہے ہر قدم چلتا ہوں خاک پا کو تیری چومتا ہوا تو میرے دل کا نور ہے، اے جانِ آرزو روشن تجھی سے آنکھ ہے، اے نیر بدی ہیں جان و جسم ، سو تری گلیوں پر ہیں نثار اولاد ہے، سو وہ ترے قدموں پہ ہے فِدا تو وہ کہ میرے دل سے جگر تک اتر گیا میں وہ کہ میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا اے میرے والے مصطفیٰ، اے سید الوری اے کاش ہمیں سمجھتے نہ ظالم جدا جدا رب جلیل کی ترا دل جلوہ گاہ سینہ ترا جمال الہی کا مستقر ہے قبلہ بھی تو ہے، قبلہ نما بھی تیرا وجود شانِ خدا ہے تیری اداؤں میں جلوہ گر نور و بشر کا فرق مٹاتی ہے تیری ذات " بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر تیرے حضورتہ ہے مرا زانوئے ادب میں جانتا نہیں ہوں کوئی پیشوا دگر تیرے وجود کی ہوں میں وہ شارخ با شمر جس پر ہر آن رکھتا ہے ربُّ الوری نظر ہر لحظہ میرے در پئے آزار ہیں وہ لوگ جو تجھ سے میرے قرب کی رکھتے نہیں خبر مُجھ سے عناد و بغض و عداوت ہے اُن کا دیں اُن سے مجھے کلام نہیں لیکن اس قدر اے وہ کہ مُجھ سے رکھتا ہے پر خاش کا خیال ” اے آں کہ سوئے من پر ویدی بصد تمر