کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 265

کلامِ طاہر — Page 199

پیاری امتہ الباری ناصر صاحبہ کلام طاہر کے تعلق میں آپ کے بہت ہی قیمتی مشورے ملتے رہے ہیں اور بڑی محنت سے آپ نے اس کی گلوسری بنائی ہے۔اس کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے ، حق ادا نہیں ہوسکتا۔بہر حال میری طرف سے یہ عید کا تحفہ، جس میں آپ کا بڑا دخل ہے ذرا تاخیر سے پیش ہے، قبول فرمائیں۔والسلام خاکسار دستخط ۱۸ دسمبر ۲۰۰۱ء دستخط کر کے مجھے بھیجی کلام طاہر آپ جیسا کوئی دلدار نہ دیکھا نہ سنا اپنے عشاق سے یہ پیار نہ دیکھا نہ سنا لطف اور ایسا طرحدار نہ دیکھا نہ سنا میری جھولی کے لعل و جواھر کلام ظاہر کی تیاری کے مہ و سال میری زندگی کا سنہری دور تھا کل تو ہوتے ہی حسین ہیں خار بھی بہت حسین تھے۔حضور انور کی خدمت میں خط لکھنا: چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد والا معاملہ نہیں ہوتا۔جان و ایمان تھیلی پر رکھا ہوتا ہے۔آپ کی طرف سے جواب موصول ہوتا تو ہر دفعہ یہ سوچ کر کھولتی کہ لکھا ہوگا۔عزیزہ ! اگر مبلغ علم کی کوتاہ قامتی کا یہ عالم ہے تو زحمت نہ ہی کریں جزاکم اللہ۔مگر آپ نے بڑے تحمل و برداشت بلکہ صبر سے میری کوتاہیوں سے صرف نظر فرمایا۔اور سمجھا سمجھا کر حوصلہ بڑھاتے رہے۔میری جھولی میں ایسے لعل و جواہر بھی ہیں جن پر مجھے بجا طور پر عاجزانہ فخر ہے۔یہ بھی کلیتہ 45