کلامِ طاہر — Page 200
آپ کا حسن نظر ہے صلى الله ظہور خیر الانبیا میل ۱۹۹۳ء کے جلسہ سالانہ لندن اور پھر جرمنی میں پڑھی گئی۔کچھ ترامیم و اضافے کے بعد اس کا حسن دوبالا ہو گیا تھا۔میں نے حضور انور کی خدمت میں نظم سن کر اپنے تاثرات لکھے۔میں نے تو کیا لکھا ہوگا ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں مگر آپ کا مکتوب آپ کے حسن و احسان کا مرقع ہے۔آپ کی طرف سے لجنہ امریکہ سے خطاب کا اردو تر جمہ اور میرے کلام کا کتابت شدہ مسودد موصول ہوا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔اپنے خط میں آپ نے نعت ظہور خیر الانبیاء صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حوالے سے جو تبصرہ کیا ہے اس میں دو باتیں قابل غور ہیں۔ایک تو یہ کہ ماشاء اللہ بہت ہی خوبصورت زبان میں تبصرہ کیا ہے اور جن جذبات کا اظہار کیا ہے وہ بھی بہت لطیف ہیں۔اور یہ بھی بالکل درست ہے کہ اس نظم پر محض آپ کی یاد ہی نہیں آئی بلکہ جذبہ احسان کے ساتھ یاد آتی رہی۔کیونکہ اس کے بہت سے شعر ایسے تھے جن کے متعلق مجھے خیال تھا کہ اصلاح کے محتاج ہیں لیکن وقت نہیں ملتا تھا۔آپ نے درست طور پر ان کی نشان دہی کی اور اصلاح کروا کے چھوڑی اور نہ میں کئی سال سے اسے ٹال رہا تھا اس لئے یہ نعت اور اس کے علاوہ کئی اور نظموں پر آپ کی توجہ کے نتیجہ میں جو وقت نکالا ہے یہ مواقع ہمیشہ جذبہ احسان کے ساتھ آپ کی یاد دلاتے ہیں۔جزاکم اللہ احسن الجزاء فی الدنیا والاخرة“۔☆☆☆۔۔۔۔(مکتوب ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۳ء) رکھتی نہیں ترتیب سے یا دیں کبھی لیکن باندھا ہے ترے نام کا اک باب علیحدہ میرے اس علیحدہ باب میں الگ باندھ کے رکھا ہوا ایک مکتوب مجھے بے حد عزیز ہے۔اس میں 46