کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 265

کلامِ طاہر — Page 198

کس زباں سے میں کروں شکر کہاں ہے وہ زباں کہ میں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا ☆۔۔نیم سیفی صاحب نے الفضل ۲۲ اگست 1990ء کے شمارے میں ایک دلچسپ قطعہ شائع کیا۔سلیمہ میر و باری کو مبارک ہو طاہر دل بہت شایانِ شان آیا کلام حضرت کچھ ایسی دیدہ زیب اس کی کتابت و طباعت ہے که از خود ہو گیا مفہوم اس کا ظاہر و خاکسار نے جوابا لکھا:۔باہر کلام حضرت طاہر کی خدمت اک سعادت ہے اسے فصل خداوندی کا سارا سلسلہ کہہ دوں اللہ کا احسان ہے اس کی عنایت ہے ہے مجھ کو اک درویش کے دل کی دعا کہہ دوں سلیمہ میز و باری تو ہیں اک تنظیم کا حصہ میں سب لجنہ کراچی کی طرف سے شکریہ کہہ دوں W کلام طاھر کی لندن سے طباعت اور اضافے اللہ تعالیٰ کے احسانات کا جتنا بھی شکر کروں کم ہے۔۲۰۰۱ء میں لندن سے کلام طاہر کا نیا ایڈیشن شائع ہوا۔حضور پر نور کے ارشاد پر نئی شامل ہونے والی نظموں کی پروف ریڈنگ اور گلاسری کی تیاری کی سعادت نصیب ہوئی۔لندن سے جو کتاب شائع ہوئی وہ بدرجہا خوبصورت ہے۔لجنہ کراچی کا اشاعت کا اسلوب برقرار رکھا جس کی ہم سب کو بہت خوشی ہے۔کتاب موصول ہوئی جس پر پیارے آقا کا دلکش نوٹ تھا : 44