کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 249

117 دست کوتاہ کو پھر درازی بخش خاکساروں کو سرفرازی بخش جیت لوں تیرے واسطے سب دل وہ ادا ہائے جاں نوازی بخش پانی کر دے علوم قرآن کو گاؤں گاؤں میں ایک رازی بخش روح فاقوں سے ہو رہی ہے نڈھال ہم کو پھر نعمت حجازی بخش بت مغرب ہے ناز پر مائل اپنے بندوں کو بے نیازی بخش جھوٹ کو چاروں شانے چت کر دیں مومنوں کو وہ راستبازی بخش روح اقدام و دور بین نگاه قلب شیر و نگاه بازی بخش و پائے اقدس کو چوم لوں بڑھ کر مجھ کو تو ایسی پاک بازی بخش سرگرانی میں عمر گزری ہے سروری بخش، سرفرازی بخش کُفر کی چیرہ دستیوں کو مٹا دست اسلام کو درازی بخش سید الانبیاء کی امت کو جو ہوں غازی بھی وہ نمازی بخش ہوں جہاں گرد ہم میں پھر پیدا سند باد اور پھر جہازی بخش میرے محمود بن مِیرا محمود مجھ کو تو سیرت ایازی بخش اخبار الفضل جلد 32- 30 دسمبر 1944 ء 247