کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 248

116 ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دلدار کا اس سے بڑھ کر کیا ذریعہ چاہیے اظہار کا فلسفی ہے فلسفہ سے رازِ قدرت ڈھونڈتا عاشق صادق ہے جو یاں یار کے دیدار کا عقل پر کیا طالب دنیا کی ہیں پڑے پڑے ہے عمارت پر فدا مت کر مگر معمار کا تیری رہیں موت سے بڑھ کر نہیں عزت کوئی دار پر سے ہے گزرتا راہ تیرے دار کا غیر کیوں آگاہ ہو راز محبت سے میرے دشمنوں کو کیا پتا ہو میرے تیرے پیار کا ڈھونڈتا پھرتا ہے کونا کو نہیں گھر گھر میں کیوں اس طرف آئیں بتا دوں تجھ کو تیرے یار کا بتا اے خدا کر دے منور کینہ و دل کو مرے سر سے پا تک میں بنوں مخزن تیرے انوار کا سیر کروا دے مجھے تو عالم لاہوت کی کھول دے تو باب مجھ پر روح کے انسداد کا قید و بند حرص میں گردن پھنسائی آپ نے اس حماقت پر ہے دعوئی فاعِل مختار کا و رشتہ الفت میں باندھے جارہے ہیں آج لوگ توڑ بھی کیا فائدہ ہے اس ترے زنار کا میں فلسے بھی راز قدرت بھی رموز عشق بھی کیا زالا ڈھنگ ہے پیارے تری گفتار کا ین رہی ہے آسماں پر ایک پوشاک جدید تانا بانا ٹوٹنے والا ہے اب کفار کا اُن کے ہاتھوں سے تو جام زہر بھی تریاق ہے وہ پلائیں گے تو پھر زہرہ کسے انکار کا چھٹ گیا ہاتھوں سے میرے دامن صبر و شکیب چل گیا دل پر میرے جادو تبری رفتار کا اخبار الفضل جلد 32 - 3 نومبر 1944 246