کلام محمود مع فرہنگ — Page 250
118 اے حسن کے جادو مجھے دیوانہ بنادے اے شمع رخ اپنا مجھے پروانہ بنادے ہر وقت مئے عشق یہاں سے رہے بستی ویرانہ دل کو میرے میخا نہ بنادے مجھ کو تیری مخمور نگاہوں کی قسم ہے اک بار ادھر دیکھ کے مستانہ بنا دے کر دے مجھے اسرار محبت سے شناسا دیوانہ بنا کر مجھے فرزانہ بنادے اُس اُلفت ناقص کی تمنا نہیں مجھے کو جو دل کو میرے گوھر یکتا نہ بنادے میں جائزہ عشق مرے عشق سے عاشق دل کو میرے عشاق کا پیمانہ بنادے جو ختم نہ ہو ایسا دکھا جلوہ تاباں جو مر نہ سکے مجھ کو وہ پروانہ بنا دے دل میں مرے کوئی نہ کسے تیرے سوا اور گر تو نہیں بستا اسے ویرانہ بنا دے ابلیس کا سر پاؤں سے تو اپنے مکمل دے ایسا نہ ہو پھر کعبہ کو بت خانہ بنا دے 248 اخبار الفضل جلد 32 - 30 دسمبر 1944 گر