کلام محمود مع فرہنگ — Page 155
کیا نہیں آنکھوں میں اب کچھ بھی مُروث باقی مجھ مصیبت زدہ کو آنکھیں دکھانے والے مجھ کو دکھلاتے ہوئے آپ بھی رہ کھو بیٹھے اے خضر کیسے ہو تم راہ دکھانے والے ڈھونڈتی ہیں مگر آنکھیں نہیں پاتیں اُن کو ہیں کہاں وہ مجھے روتے کو ہنسانے والے ساتھ ہی چھوڑ دیا سب نے شب ظلمت میں ایک آنسو ہیں لگی دل کی بجھانے والے تا قیامت رہے جاری یہ سخاوت تیری او میرے گنج معارف کے لٹانے والے رہ گئے مُنہ ہی ترا دیکھتے وقتِ رِحلتْ ہم پسینے کی جگہ خون بہانے والے ہو نہ تجھ کو بھی خوشی دونوں جہانوں میں نصیب کوچہ یار کے رستہ کے بھلانے والے 154