کلام محمود مع فرہنگ — Page 109
درد میں لذت ملے گی دُکھ میں پاؤ گے سرور بے قراری بھی اگر ہو گی تو آئے گا قرار سرنگوں ہو جائیں گے دُشمن تمہارے سامنے منتجی ہوں گے برائے عفو وہ با حالِ زار الْغَرضُ یہ عشق مولی بھی عجب اک چیز ہے جو گداگر کو بنا دیتا ہے دم میں شہر یار بس یہی اک راہ ہے جس سے کہ ملتی ہے نجات بس یہی ہے اک طریقہ جس سے ہو عز و وقار اخبار الحكم جلد 16 - 7 جنوری 1912ء 109