کلام محمود مع فرہنگ — Page 39
ہندوستاں سے اٹھ گیا تھا علم اور ہنر یاں آتا تھا نہ عالم و فاضل کوئی نظر پھیلا تھا ہر چہار طرف پینل ملک پر کوئی نہ تھا جو آکے ہمارا ہو چارہ گر اپنے پرانے چھوڑ کے سب ہو گئے الگ ہم بے کسوں پر آخر انہوں نے ہی کی نظر انگریزوں نے ہی بے کس و یک حال دیکھ کر کھوئے ہیں علم وفضل کے ہم پر ہزار دوز مذہب میں ہر طرح ہمیں آزاد کر دیا چلتا نہیں سروں پہ کوئی جبر کا تبر پوجا کرئے نماز پڑھنے کوئی کچھ کرے آزاد کر دیا ہے انھوں نے ہر اک بشر انقضہ سلطنت یہ بڑی مہربان ہے آتی نہیں جہان میں ایسی کوئی نظر فضل خدا سے ہم کو ملی ہے سلطنت جو نفع دینے والی ہے اور ہے بھی بے ضرر اور اس سے بڑھ کے جسم خدا کا یہ ہم پر ہے عیسی مسیح سا ہے دیا ہم کو راہبر محمود دردِ دل سے یہ ہے اب میری دُعا قیصر کو بھی ہدایت اسلام ہو عطا اخبار بدر جلد 6 - 30 مئی 1907ء 39 39