کلام محمود مع فرہنگ — Page 40
15 نہ کچھ قوت رہی ہے جسم وجاں میں نہ باقی ہے اثر میری زباں میں ہے تیاری سفر کی کارواں میں میرا دل ہے ابھی خواب گراں میں نہیں چھٹتی نظر آتی میری جاں پھنسا ہوں اس طرح قید گراں میں مزا جو یار پر مرنے میں ہے وہ نہیں لذت حیات جاوداں میں ہر اک عارف کے دل پر ہے وہ ظاہر خُدا مخفی نہیں ہے آسماں میں خُدایا درد دل سے ہے یہ خواہش مرا تو ساتھ دے دونوں جہاں میں نظر میں کاہلوں کی ہے وہ کامل انتہا ہے جو پورا را متقاں میں یہی جی ہے کہ پہنچے یار کے پاس ہے مُرغ دل تڑپتا آشیاں میں جو سنتا ہے پکڑ لیتا ہے دل کو تڑپ ایسی ہے میری داستاں میں ندائے دوست آئی کان میں کیا ؟ کہ پھر جاں آگئی راک نیم جاں میں کریں کیونکہ نہ تیرا شکر یارب کہ تو نے لے لیا ہم کو اماں میں ہر اک رنج و بلا سے ہم ہیں محفوظ مصیبت پڑ رہی ہے گو جہاں میں 40 40