کلام محمود مع فرہنگ — Page 38
دبدبہ یہ رعب اور شان بھلا اس میں تھی کہاں یہ دید یہ تھا قیصر روما کو کب ملا اور ہے ایسی شان قیصر ہندوستان کی ہے دشمن اس کی خنجر کہاں سے کا پتا اس سلطنت کی تم کو بتاؤں وہ خوبیاں جن سے کہ اس کی مہر و عنایات ہوں عیاں اس کے سبب سے ہند میں امن و امان ہے کے شور و شر کہیں ہے نہ آہ و فغان ہے ہندوستان میں ایسا کیا ہے انہوں نے مذل ہر شورہ پشت جس سے جوانیم جان ہے وہ جا جہاں پہ ہوتی تھی ہر روز لوٹ مار ہر طرح اس جگہ پر اب امن امان ہے خفیہ ہو کوئی بات تو بتلاؤں میں تمہیں طرز حکومت ان کی ہراک پر عیان ہے ہندوستان میں چاروں طرف دیل جاری کی اُن کا ہی کام ہے یہ بیان کی ہی شان ہے چیزیں ہزاروں ڈاک میں بھیجو تم آج کل نقصان اس میں کوئی نہ کوئی زبان ہے پھیلایا تار ملک میں آرام کے لیے یہ سلطنت ہی ہم پر بہت مہربان ہے چھوٹوں بڑوں کی چین سے ہوتی ہے یاں کیسر نے مال کا خطر ہے نہ نقصان جان ہے پیتے ہیں ایک گھاٹ پر شیر اور گوشتند اس سلطنت میں یاں تک امن امان ہے پھر بھی کوئی نہ مانے جو احساں تو کیا کریں ایسے کو بے فرد کہیں یا بے حیا کہیں 38