کلام محمود مع فرہنگ — Page 267
انہیں ٹوٹا ہی سمجھ ہر گھڑی تم وہ دل جو بن رہے ہیں آیگینے خُدا را اس کو رہنے دیں سلامت یہ دل مجھے کو دیا تھا آپ ہی نے علامت کفر کی ہے تنگی نفس مگر اسلام سے کھلتے ہیں سینے سے وہی ہیں غوطہ خور بحر بہشتی درار سے ہیں بھرے جن کے سفینے مہاجر بننے والو یہ بھی سوچا کہ پیچھے چھوڑے جاتے ہو مدینے اخبار الفضل جلد 2 لاہور پاکستان 12 مئی 1948 ء 265