کلام محمود مع فرہنگ — Page 266
129 مرادیں کوٹ لیں دیوانگی نے نہ دیکھی کامیابی آگہی نے میری جانب یونہی دیکھا کسی نے نظر آنے لگے ہر جاؤ فینے مزاج یار کو برہم کیا ہے میری اُلفت میری دل بستگی نے زمین و آسماں کی بادشاہت عطا کی مجھ کو تیری بندگی نے جدائی کا خیال آیا جو دل میں لگے آنے پسینوں پر پینے کنارہ آہی جائے گا کبھی تو چلائے جا رہے ہیں ہم سفینے اُسی کے در پہ اب دھونی رمادوں کیا ہے فیصلہ یہ میرے جیا نے جو میرا تھا اب اُس کا ہو گیا ہے میرے دل سے کیا یہ کیا کسی نے جدائی میں تیری تڑپا ہوں برسوں یونہی گزرے ہیں ہفتے اور مہینے دہ منہ سُرخ آگیا خود پاس میرے لگائے چاند مجھ کو بے کسی نے وہ آنکھیں جو ہوئیں الفت میں بے نور نہیں وہ اُس کی اُلفت کے نگینے اُسی کا فضل ڈھانچے گا مراکشر نہ کام آئیں گے پینے کرینے پرستاران زر یہ تو بتاؤ غریبوں کو بھی پوچھا ہے کسی نے ؟ کنوئیں جھانکا گیا ہوں عمر بھر میں ڈبویا مجھ کو دل کی دوستی نے 264