کلام محمود مع فرہنگ — Page 52
قوم کے بغض و عداوت کی نہیں پروا ہمیں وقت یہ کٹ جائے گا، فضلِ خُدا ہو جائے گا چھوڑ دو اعمالِ بد کے ساتھ بد محبت بھی تم زخم سے انگور مل کر پھر ہرا ہو جائے گا حق پہ ہم ہیں یا کہ یہ محتاد ہیں جھگڑا ہے کیا فیصلہ اس بات کا روزِ جزا ہو جائے گا تیرا ہر ہر لفظ اے پیارے میں جائے زماں حق کے پیاسوں کے لیے آب بقا ہو جائے گا کیوں نہ گرداب کلاگت سے نکل آئے گی قوم کشتی دیں کا خُدا جب ناخُدا ہو جائے گا کرو جو کچھ موت کے آنے سے پہلے ہو سکے تیر چھٹ کر موت کا پھر کیا خطا ہو جائے گا؟ عشق مولی دل میں جب محمود ہوگا موجزن یاد کر اس دن کو تو پھر کیا سے کیا ہو جائے گا اخبار بدر جلد 7 - 25 جون 1908 ء 52 59