کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 51

محکم ربی سے یہ ہے پیچھے پڑا شیطان کے اس کے ہاتھوں سے اب اس کا فیصلہ ہو جائے گا اس کی باتوں سے ہی ٹوٹے گا یہ دجالی طلسم اس کا ہر ہر لفظ موسیٰ کا عصا ہو جائے گا خاک میں مل کر ملیں گے تجھ سے یا رب ایک دن درد جب حد سے بڑھے گا تو دوا ہو جائے گا آب رُوحانی سے جب سیراب ہو گا کل جہاں پانی پانی شرم سے اک بے حیا ہو جائے گا ہیں درِ مالک پر بیٹھے ہم لگائے ٹیکٹیکی ہاں کبھی تو اپنا نالہ بھی کیا ہو جائے گا جبکہ پانی کا ہے انساں نہیں کرتا خیال ایک ہی صدمہ اُٹھا کر وہ ہوا ہو جائے گا سختیوں سے قوم کی گھبرا نہ ہرگز اے عزیز کھا کے یہ پتھر تُو کفل بے بہا ہو جائے گا جو کوئی دریائے فکر دیں میں ہو گا غوطہ زن میں اتر جائے گی اس کی ، دل صفا ہو جائے گا 51