کلام محمود مع فرہنگ — Page 53
20 یا الہی رحم کر اپنا کہ میں بیمار ہوں دل سے تنگ آیا ہوں اپنی جان سے بیزار ہوں بس نہیں چلتا تو پھر یہیں کیا کروں لاچار ہوں سر مُصیبت کے اُٹھانے کے لیے تیار ہوں ہو گئی ہیں انتظار یار میں آنکھیں سپید راک بہت سیمیں بدن کا طالب دیدار ہوں کرم خاکی ہوں ، نہیں رکھتا کوئی پروا میری دشمنوں پر نہیں گراں ہوں دوستوں پر بار ہوں کچھ نہیں حالِ کلیسا وصنم خانہ کا علم نشہ جامِ مئے وحدت میں میں سرشار ہوں اس کی دُوری کو بھی پاتا ہوں مقام قرب ہیں خواب میں جیسے کوئی سمجھے کہ میں بیدار ہوں کیا کروں جا کر حرم میں مجھ کو ہے تیری تلاش دار کا طالب نہیں ہوں طالب دیدار ہوں 53