کلام محمود مع فرہنگ — Page 36
14 کیوں ہو رہا ہے خرم و خوش آج کل جہاں کیوں ہر دیار و شہر تہوار شک بوستاں ہورہا چہرہ پہ اس مریض کے کیوں روئی آگئی جو کل تلک تھائخیت ضعیف اور ناتواں ان بے کسوں کی ہمتیں کیوں ہوگئیں بکنند جن کا کہ کل جہاں میں نہ تھا کوئی پاسباں وہ لوگ جو کہ راہ سے بے راہ تھے ہوئے کیوں اُن کے چہروں پر ہے خوشی کا اشرعیاں تاریخی و جهالت و ظلمت کدھر گئی دنیا سے آج آن کا ہوا کیوں ہے گم نشاں مجھ سے سُنو کہ اتنا تغیر ہے کیوں ہوا جو بات کی نہاں تھی ہوئی آج کیوں کیاں جوہات یہ وقت وقت حضرت عیسی ہے دوستو جو نائب خُدا ہیں جو ہیں مہدی زماں ہو کر غلام احمد مرسل کے آئے ہیں قربان جن کے نام یہ بھوتے ہیں اس مہاں سب دشمنانِ دیں کو اُنھوں نے کیا ذلیل بخشی ہے رب عرب کو جیل نے وہ عز وشاں سکرب جو اُن سے لڑنے آئے وہ دنیا سے اُٹھ گئے باقی کوئی بچا بھی تو ہے اب وہ نیم جاں وہ اُن کو ذلیل کرنے کا جس نے کیا خیال ایسا ہوا ذلیل کہ جینا ہوا محال رنج و غم و کلال کو دل سے بھلا دیا جو داغ دل پر اپنے لگا تھا بنا دیا ہم جھوٹے پھر رہے تھے کہیں کے کہیں مگر جو راہ راست تھا ہمیں اس نے بتا دیا 36