کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 37

راک جام معرفت کا جو ہم کو پلا دیا جتنے شکوک وشبہ تھے سب کو مٹا دیا دکھلا کے ہم کو تازہ نشانات و معجزات چہرہ خدائے عرب و حل کا دکھا دیا ہم کیوں کریں نہ اس پہ فدا جان و آبرو روشن کیا ہے دین کا جس نے بجھا دیا دہ دل جو بغض و کینہ سے تھے کور ہوا ہے دیں کا کمال اُن کو بھی اس نے دیکھا دیا اُس نے ہی آگے ہم کو اُٹھایا زمین سے تھا دشمنوں نے خاک میں ہم کو ملا دیا نے ہم کو ڈوئی قصوری۔دھلوی۔لیکھو و سومراج ساروں کو ایک وار میں اس نے گہرا دیا ایسے نشاں دکھائے کہ میں کیا کہوں تمھیں کفار نے بھی اپنے سروں کو مجھکا دیا احسان اس کے ہم یہ ہیں بے حد و بیکراں جو گن سکے اُنھیں نہیں ایسی کوئی زُباں ہم برطانیہ جو تم یہ حکومت ہے کہ رہا تم جانتے نہیں ہو کہ ہے بھید اس میں کیا یہ بھی اسی کے دم سے ہے نعمت تمہیں ملی تائش کر جان و دل سے خُدا کا کرد ادا نازل ہوئے تھے عیسی مریم جہاں وہاں اس وقت جاری قیصر روما کا حکم تھا تھا سوا گو تھی یہودیوں کی نہ وہ اپنی سلطنت پر اپنی سلطنت سے بھی آرام تھا ویسی ہی سلطنت تمھیں اللہ نے ہے دی تا اپنی قسمتوں کا نہ تم کو رہے گلہ پر جیسے اُس سیخ سے بڑھ کر ہے یہ مسیح یہ سلطنت بھی پہلی سے ہے امن میں سوا 31 37