کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 348

189 بلا کی آگ برستی ہے آسماں سے آج ہیں تیر چھٹ رہے تقدیر کی کماں سے آج اُٹھ اور اُٹھ کے دکھا زور حُب ملت کا یہ التجا ہے میری پیر اور جواں سے آج اور کے زورخت وہ چاہتا ہے کہ ظاہر کرے زمانہ پر ہمارے دل کے ارادے اس انتخاں سے آج جو دل کو چھید دے جا کہ عد د مسلم کے وہ تیر نکلے الہی مری کماں سے آج خُدا ہماری مدد پر ہے جو کہ ہیں مظلوم مٹائے گا وہ کدو کو میرے جہاں سے آج جلا کے چھوڑیں گے افدائے کینہ پرور کو نکل رہے ہیں جو شفلے دل کہاں سے آج ہزار سال مسلماں نے تجھ کو پالا ہے یہ غیظ تجھ میں ابھر آیا ہے کہاں سے آج جو قلب مومین صادق سے اُٹھ رہی ہے دُعا اتر رہے ہیں فرشتے بھی کہکشاں سے آج ہمارے نیک ارادوں پر اس قدر شبہات خُدا ضرور ہی پلٹے گا بدگماں سے آج عدد یہ چاہتا ہے ہم کو لامکاں کردے ہمیں بھی آئے گی امداد لامکاں سے آج فرشتے بھر رہے ہیں اُس کو اپنے دامن میں نکل رہی ہے دُعا جو میری زباں سے آج پڑے گی رُوح نئی جہنم زار مسلم میں وہ کام ہو گا مرے ہم نیم جاں سے آج دعائیں شعلہ بقوالا بن کے اتریں گی جلا کے رکھ دیں گے غداء کو ہم مناں سے آج جیوش ابر بہ کو تہس نہس کر دے گی اُڑے گی فوج طیور اپنے آشیاں سے آج 344