کلام محمود مع فرہنگ — Page 319
174 الفث الفت کہتے ہیں پر دل الفت سے خالی ہے ہے دل میں کچھ اور منہ پر کچھ دُنیا کی ریت نرالی ہے اور کہتے ہیں آ دنیا کو دیکھ ہیں اس میں کیسے نظارے میں کہتا ہوں بس پوپ بھی رہو یہ میری دیکھی بھالی ہے یاں عالم ان کو کہتے ہیں جو دین سے کورے ہوتے ہیں جب دیکھو بھیڑیا نکلے گا جو بھیڑوں کا رکھوالی ہے تقویٰ کا جھنڈا جھکتا ہے پر کفر کی گڈی چڑھتی ہے اس دُنیا میں اب نیکوں کا کوئی تو اللہ والی ہے اندھیاری راتوں میں سجدے کرنا تو پہلی باتیں تھیں آب دن اک مجلس عیش کی ہے اور رات جو ہے دیوالی ہے آب صوفے کو چھیں گر جائیں اک شان سے رکھے رہتے ہیں کمسجد میں چٹائی ہوتی تھی سو ظالم نے سن کا لی ہے کافر کے ہاتھ میں بندوقیں مومن کے ہاتھ سلاسل میں کافر کا ہاتھ خزانوں پر مومین کی پیالی خالی ہے اخبار الفضل جلد 7 لاہور پاکستان 3 جنوری 1953 ء 317