کلام محمود مع فرہنگ — Page 318
173 دہ دل کو جوڑتا ہے تو ہیں دلفگار ہم وہ جان بخشتا ہے تو ہیں جاں نثار ہم دولہا ہمارا زندہ جاوید ہے جناب کیا بے وقوف ہیں کہ نہیں سوگوار ہم در اس کا آج گھر نہ کھلا خیر کل سہی جائیں گے اس کے در پہ یونہی بار بار ہم تذ ہبیر ایک پردہ ہے تقدیر افضل ہے ہوں گے بس اس کے فضل سے ہی کامگار ہم کوئی عمل بھی کر نہ سکے اُس کی راہ میں رہتے ہیں اس خیال سے ہی شرمسار ہم دنیا کی منتوں سے تو کوئی بنا نہ کام روئیں گے اُس کے سامنے اب زار زار ہم اُٹھ کر رہے گا پردہ کسی دن تو دیکھنا باندھے کھڑے ہیں سامنے اس کے قطار ہم دشمن ہے خوش کہ نعمت دنیا می اُسے ٹوٹیں گے اس کی گود میں جاکر بہار ہم قسمت نے کیا جوڑ ملایا ہے دیکھنا وہ خالق جہاں ہے تو مُشتِ غبار ہم 316 اخبار الفضل جلد 6 لاہور پاکستان 31 دسمبر 1952ء