کلام محمود مع فرہنگ — Page 209
یہ سارے ختم قرآں کر چکے ہیں دلوں کو نور حق سے بھر چکے ہیں خُدا کا فضل ان پر ہو گیا ہے کلام اللہ کا خلعت ملا ہے یہ نعمت سارے انعاموں کی ماں ہے جو سچ پوچھو ہی باغ جناں ہے ملی ہے ہم کو یہ فضل خدا سے جیب پاک حضرت مصطفے سے شہر کولاک یہ نعمت نہ پاتے تو اس دنیا سے ہم اندھے ہی جاتے کجا ہم اور کجا مولیٰ کی باتیں کجا دن اور کمجا تاریک راتیں رسائی کب تھی ہم کو آسمان تک جواٹ تے بھی تو ہم اڑتے کہاں تک خداہی تھا کہ جس نے دی یامت محمدی تھے جو لائے یہ خلعت پس اے میرے عزیز د میرے بیجو! دل و جاں سے اسے محبوب رکھو یہی ہے دین و دنیا کی بھلائی اسی سے دُور رہتی ہے بُرائی اسی سے ہوتی ہے راحت میسر اسی میں دیکھتے ہیں روئے دلبر یہی لے جاتی ہے مولی کے در تک ہی پہنچاتی ہے مومن کو گھر تک خدایا اے میرے پیارے خُدایا الهُ الْعالَمينَ رَبِّ البرايا ہو سب میرے عزیزوں پر عنایت ملے تجھ سے انہیں تقویٰ کی خلعت کلام اللہ پر ہوں سب وہ عامل نگاہوں میں تیری ہوں نفس کامل 207