کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 210

بس اک تیری ہی ان کے دل میں طلبہو نہ دیکھیں غیر کو کوئی ہو ، کیا ہو محبت تیری اُن کے دل میں رچ جائے ہر اک شیطان کے پنجے سے بچ جائے علوم آسمانی ان کو مل جائیں دلوں کی اُن کے کلیاں خوب کھل جائیں خوب ترا الہام بھی ہو ان پر نازل ترا اکرام بھی ہو ان کے شامل کریں تیرے فرشتے ان سے باتیں مُعارف کی نہیں سینوں میں نہریں ہر اک ان میں سے ہو شمع ہدایت بتائے اک جہاں کو راز قدرت دلوں کو نور سے ہوں بھرنے والے ہوں تیری رہ میں ہر دکھ مرنے والے برائی دشمنوں کی بھی نہ چاہیں ہمیشہ خیر ہی دیکھیں نگاہیں لڑائی اور جھگڑے دُور کر دیں دلوں کو پیار سے معمور کر دیں جو سیکس ہوں یہ ان کے یار ہو جائیں سیر ظالم پر اک تلوار ہو جائیں بنیں ابلیس نافرماں کے قاتل لوائے احمدیت کے ہوں حامل یہ میدان ونغا میں جب کبھی آئیں تو دل اغداء کے سینوں میں گل جائیں بنائے شرک کو جڑ سے ہلا دیں نشان کفر و بدعت کو مٹا دیں مٹادیں خدا کا نور چمکے ہر نظر میں ملک آئیں نظر چشم بشر میں بڑھیں اور ساتھ دنیا کو بڑھائیں پڑھیں اور ایک عالم کو پڑھائیں 208