کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 206

88 خُدایا اے میرے پیارے خُدایا اللهُ الْعَالَمِينَ رَبُّ البرايا ملیک و مالیک و خلاق عالم رحیم و راحم و بخو العطایا تری درگہ میں اک اُمید لے کر ترا اک بندہ عاصی ہے آیا وہ خالی ہاتھ ہے ہر پیشکش سے نہیں لایا وہ ساتھ اپنے ہدایا جو تو نے دی تھی اس کو طاقت خیر وہ کر بیٹھا ہے اس کا بھی صفایا دہ حیوانوں سے بدتر ہو رہا ہے نہیں تقویٰ میں حاصل کوئی پایا سمٹ کر بن گئی نیکی سوندا اُفق پر چھا گئیں اس کی خطایا بتاؤں کیا کہ شیطاں نے کہاں سے کہاں لے جا کے ہے اس کو گرایا نہیں آرام پل بھر بھی میسر ہے اس ظالم نے کچھ ایسا ستایا جہاں کا چپہ چپہ دیکھ ڈالا مگر کوئی ٹھکانا بھی نہ پایا ہوا مایوس جب چاروں طرف سے نہ جب گوشش نے اس کا کچھ بنایا تو ہر پھر شوبی کر رہی تدبیر شو بھی تری تقدیر کا در کھٹکھٹایا ہی ہے آرزو اس کی الہی یہی ہے التجا اس کی خُدایا کہ مشرق اور مغرب دیکھ ڈالے سکوں لیکن کہیں اس نے نہ پایا 204