کلام محمود مع فرہنگ — Page 205
کیا تیرے ساتھ لگا کر دل میں خود بھی کمینہ بن جاؤں ہوں جنت کا مینار، مگر دوزخ کا زمینہ بن جاؤں ہے خواہش میری الفت کی تو اپنی نگاہیں اُونچی کر تدبیر کے جالوں میں مت پھنس کہ قبضہ جا کے مقدر پر میں واحد کا ہوں دل دادہ اور واحد میرا پیارا ہے گر تو بھی واحد بن جائے تو میری آنکھ کا تارا ہے تو ایک ہو ساری دُنیا میں کوئی ساتھی اور شریک نہ ہو تو سب دُنیا کو دے لیکن خود تیرے ہاتھ میں بھیک نہ ہو أخبار الفضل جلد 17-10 جنوری 1930ء 203