کلام محمود مع فرہنگ — Page 186
77 بخش دو رحم کرو شکوے گلے جانے دو مر گیا، ہجر میں میں پاس مجھے آنے دو دوستو ! کچھ نہ کہو مجھ سے مجھے جانے دو خنجر ناز سے تم کسر مجھے کٹوانے دو (2) پڑگئی جس پر نظر ہو گیا کہ پوش ہی میرے دلدار کی آنکھیں ہیں کہ غم خانے دو دوستو ! رحم کرو کھول دو زنجیروں کو جا کے جنگل میں مجھے دل ذرا بہلانے دو (2) سر ہے پر فکر نہیں، دل ہے پر اُمید نہیں اب میں بیس شہر کے باقی ہیں ویرا نے دو تمھیں تریاق مبارک ہو مجھے زہر کے گھونٹ غم ہی اچھا ہے مجھے تم مجھے غم کھانے دو دوستو سمجھو تو ہے زندگی اس موت کا نام یار کی راہ میں اب تم مجھے مر جانے دو دل کی دل جانے مجھے کام نہیں کچھ اس سے اپنی ڈالی ہوئی گنٹھی اُسے سلجھانے دو نفس پر بوجھ ہی ڈالو گے تو ہوگی اصلاح اونٹ کرتے ہیں یونہی چھینے چلا نے دو فکر پر فکر توغم پر ہے غموں کی بوچھاڑ سانس تو لینے دو تھوڑا سا توئنتا نے دو اک طرف عقل کے شیطاں ہے تو اس جانب نقش ایک دانا کو میں گھیرے ہوئے دیوانے دو کبھی غیرت کے بھی دکھلانے کا موقع ہوگا یا یونہی کہتے چلے جاؤ گے تم جانے دو (2) کٹ گئی عمر رگڑتے ہوئے ماتھا در پر کاش تم کہتے کبھی تو کہ اُسے آنے دو (2) مجھ سے ہے اور تو غیروں سے ہے کچھ اور شلوک دلبرا آپ بھی کیا رکھتے ہیں پیمانے دو تن سے کیا جان جدا رہتی ہے یا جان سے تن اخبار الفضل جلد 14-24 اگست راستہ چھوڑ دو دربانو! مجھے جانے دو * 1927 184