کلام محمود مع فرہنگ — Page 187
78 تو وہ قادر ہے کہ تیرا کوئی ہمسر ہی نہیں - میں وہ بے لیس ہوں کہ بے در بھی ہوں بے پہ ہی نہیں کنت جنبل سے محروم کیا علم نے آہ ! خواہش اُڑنے کی تو رکھتا ہوں مگر پر ہی نہیں گھونسلے چڑیوں کے ہیں مانذدیں ہیں شیروں کے لیے پر میرے واسطے دُنیا میں کوئی گھر ہی نہیں خوف اگر ہے تو یہ ہے تجھ کو نہ پاؤں ناراض جان جانے کا تو اے جان جہاں ڈر ہی نہیں عشق بھی کھیل ہے ان کا کہ جو دل رکھتے ہیں ہو جو سودا تو کہاں ہو کہ یہاں سر ہی نہیں آنکھیں پرنم ہیں جگہ ٹکڑے ہے سینہ ہے چاک یاد میں تیری تڑپتا دلِ مُضطَہ ہی نہیں ذره ذرہ مجھے عالم کا یہ کہتا ہے کہ دیکھ میں بھی ہوں آئنہ اس کا مہ و اختر ہی نہیں 185