کلام محمود مع فرہنگ — Page 185
76 فضل الہی کے غیبی سامان ہم اُنھیں دیکھ کے حیران ہوئے جاتے ہیں خود بخود چاک گریبان ہوئے جاتے ہیں دشمن آدم کے جو نادان ہوئے جاتے ہیں ہائے انسان سے شیطان ہوئے جاتے ہیں گیسوئے یار پریشان ہوئے جاتے ہیں اب تو واعظ بھی پشیمان ہوئے جاتے ہیں نیب سے فضل کے سامان ہوئے جاتے ہیں مرحلے سارے ہی آسان ہوئے جاتے ہیں حُسن ہے داد طلب ، عشق تماشائی ہے لاکھ پودے میں وہ عریان ہوئے جاتے ہیں تیری تعلیم میں کیا جادو بھرا ہے مرزا جس سے حیوان بھی انسان ہوئے جاتے ہیں سینکڑوں عیب نظر آتے تھے جن کو اس میں وہ بھی اب عاشق قرآن ہوئے جاتے ہیں د گورے کالے کی اُٹھی جاتی ہے دنیا سے تمیز سب تیرے تابع فرمان ہوئے جاتے ہیں سنجه اشک پروئی ہے وہ تو نے واللہ گیر بھی آب تو مسلمان ہوئے جاتے ہیں مرد و زن عشق میں تیرے ہیں برابر سرشار ہر ادا پر تیری قربان ہوئے جاتے ہیں ہے ترقی یہ مرا جوش جنوں ہر ساعت تنگ سب دشت و بیابان ہوئے جاتے ہیں بیٹھ جاؤ ذرا پہلو میں میرے آکے کہ آج سب ارادے برے ارمان ہوئے جاتے ہیں جوش گریہ سے پھٹا جاتا ہے دل پھر محمود أخبار الفضل جلد 13-8 جنوری 1926ء اشک پھر قطرہ سے طوفان ہوئے جاتے ہیں 183