کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 157

62 پیٹھ میدان ونا میں نہ دکھائے کوئی منہ پر یا عشق کا پھر نام نہ لائے کوئی حسن فانی سے نہ دل کاش لگائے کوئی اپنے ہاتھوں سے نہ خاک اپنی اُڑائے کوئی کون کہتا ہے لگی دل کی بجھائے کوئی عشق کی آگ میرے دل میں لگائے کوئی صدمہ درد وغم و سہنم سے بچائے کوئی اس گرفتار مصیبت کو چُھڑائے کوئی رہ سے شیطان کو جب تک نہ بٹائے کوئی اس کے ملنے کے لئے کس طرح آئے کوئی اپنے کوچے میں تو کتے بھی ہیں بن جاتے شیر بات تب ہے کہ میرے سامنے آئے کوئی دعوئی حُسنِ بیاں بیچ ہے میں تب جانوں مجھ سے جو بات نہ بن آئے بنائے کوئی 156