کلام محمود مع فرہنگ — Page 158
ہجر کی آگ ہی کیا کم ہے جلانے کو میرے غیر سے مل کے میرا دل نہ دُکھائے کوئی دیده شوق اُسے ڈھونڈ ہی لے گا آخر لاکھ پردوں میں بھی گو خود کو چھپائے کوئی گرن و نگار کے اُٹھانے سے بھلا کیا حاصل خاک آلوده برادر کو اُٹھائے کوئی خفگی دو چار دنوں کی تو ہوئی پر یہ کیا سال ہا سال مجھے مُنہ نہ دکھائے کوئی جرعه بادۂ الفت جو کبھی مل جائے وخت کرز کو نہ کبھی منہ سے لگائے کوئی تشنگی میری نہ پیالیوں سے بجھے گی ہرگز خم کا خُم لے کے میرے منہ سے لگائے کوئی خلق و تکوین جہاں راست ، پر سچ پوچھو تو بات تب ہے کہ مری بگڑی بنائے کوئی 157