کلام محمود مع فرہنگ — Page 150
59 حقیقی عشق گر ہوتا تو سینی جستجو ہوتی تلاش یار ہر ہر وہ میں ہوتی کو بگو ہوتی منے کونسل حبيب لا يزال و کم نین ہوتی تو دل کیا میری جاں بھی بڑھ کے قربان سبو ہوتی جو تم سے کوئی خواہش تھی تو بس اتنی ہی خواہش تھی تمھارا رنگ چڑھ جاتا تمھاری مجھے میں بُو ہوتی وفا با تجھ سے میری شہرت نہیں برعکس ہے قصہ تری هستی تو مجھ سے ہے نہ میں ہوتا نہ تو ہوتی جہاں جاتا ہوں اُن کا خیال مجھ کو ڈھونڈ لیتا ہے نہ ہوتا پیار گر مجھ سے تو کیا یوں جستجو ہوتی نہ رہتی آرزو دل میں کوئی جز دید جاناناں کبھی پوری الہی ! یہ ہماری آرزو ہوتی اگر تم دامنِ رحمت میں اپنے مجھ کو لے لیتے تمھارا کچھ نہ جاتا لیک میری آبرو ہوتی 149