کلام محمود مع فرہنگ — Page 149
ہے کبھی رویت دلدار کبھی کوفضل حبیب کیسی عُشاق کی ہے صبح و مسا دیکھو تو چاروں اطراف میں مجنوں ہی نظر آتے ہیں نہ ہوا ہو وہ کہیں جلوہ نما دیکھو تو ہے کہیں جنگ، کہیں زلزلہ ، طاعون کہیں لے گریٹ کا ہے کہیں شور پڑا دیکھو تو کس نے اپنے رخ زیبا پہ سے اُلٹی ہے نقاب جس سے عالم میں ہے یہ حشر بپا دیکھو تو جلوۂ یار ہے کچھ کھیل نہیں ہے لوگو! احمدیت کا بھلا نقش مٹا دیکھو تو کیا ہوا تم سے جو ناراض ہے دنیا محمود کس قدر تم پہ ہیں الطاف خُدا دیکھو تو انفلونزا اخبار الفضل جلد 9 - 2 جنوری 1922ء 148