کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 128

50 مری تدبیر جب مجھ کو مصیبت میں پھنساتی ہے تو تقدیر الہی آن کر اس سے چھڑاتی ہے جدائی دیکھتا ہوں جب تو مجھ کو موت آتی ہے اُمید وصل لیکن آکے پھر مجھ کو جلاتی ہے نگاہ مہر سالوں کی خصومت کو بھلاتی ہے خوشی کی اک گھڑی برسوں کی کلفت کو مٹاتی ہے محبت تو وفا ہو کر وفا سے جی چراتی ہے ہماری بن کے اسے ظالم ہماری خاک اُڑاتی ہے محنت کیا ہے کچھ تم کو خبر بھی ہے سنو مجھ سے یہ ہے وہ آگ جو خود گھر کے مالک کو جلاتی ہے کہاں یہ خانہ ویراں کہاں وہ حضرت ڈی شاں کشیشی لیکن ہمارے دل کی اُن کو کھینچ لاتی ہے ہوئی ہے بے سبب کیوں عاشقوں کی جان کی دشمن نسیم صبح ان کے منہ سے کیوں آنچل اُٹھاتی ہے 127