کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 127

49 غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہیں اغیار کا بھی بوجھ اُٹھانا پڑے ہمیں اس زندگی سے موت ہی بہتر ہے اسے خُدا جس میں کہ تیرا نام چھپانا پڑے ہمیں منبر پہ چڑھ کے غیر کہے اپنا مدعا سینہ میں اپنے جوش دبانا پڑے ہمیں یہ کیسا عذل ہے کہ کریں اور ہم بھریں اغیار کا بھی قضیہ چکانا پڑے ہیں من مدعی نہ بات بڑھاتا نہ ہو یہ بات کوچہ میں اس کے شور مچانا پڑے ہمیں اتنا نہ دُور کر کہ کئے رشتہ وداد سینہ سے اپنے غیر لگانا پڑے ہمیں پھیلائیں گے صداقت اسلام کچھ بھی ہو جائیں گے ہم جہاں بھی کہ جانا پڑے ہیں پروا نہیں جو ہاتھ سے اپنے ہی اپنا آپ حرف غلط کی طرح مٹانا پڑے ہمیں محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار روئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہمیں 126 اخبار الفضل - جلد 7 - 29 اپریل 1920