کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 28

مسیح دنیا کا رہنما ہے ، غلام احمد ہے مصطفے ہے بروز اقطاب و انبیاء ہے ، خُدا نہیں ہے خُدا شما ہے جہاں سے ایمان اُٹھ گیا تھا ، فریب و مکاری کا تھا چرچا فساد نے تھا جمایا ڈیرا ، وُہ نقشہ اس نے الٹ دیا ہے اسی کے دم سے مرا تھا۔انتھم ، امی نے لکھو کا سر کیا خم اسی کا دُنیا میں آج پر چینی ، ہما کے بازو پہ اُڑ رہا ہے اُسی کی شمشیر خونچکاں نے کیا قصوری کو ٹکڑے ٹکڑے یہ زلزلہ بار بار آ کے ، اسی کی تصدیق کر رہا ہے جمایا طاعوں نے ایسا ڈیرا ، شتون اس کا نہ پھر اکھیڑا دیا ہے خلقت کو وہ تریڑا ، کہ اپنی جہاں سے ہوئی خفا ہے مقابلہ میں جو تیرے آیا ، نہ خالی بیچ کر کبھی بھی کوٹا یہ دبد کہ دیکھ کر مسیحا ، جو کوئی حاسد ہے جل رہا ہے و خُدا نے لاکھوں رنشاں دکھائے ، نہ پھر بھی ایمان لوگ لائے عذاب کے منتظر ہیں ہائے ، نہیں جو بد بختی یہ تو کیا ہے 28