کلام محمود مع فرہنگ — Page 27
مگر خُدائے رحیم و رحماں جو اپنے بندوں کا ہے نگہباں جو ہے شہنشاہ جن و انساں جو ذرہ ذرہ کو دیکھتا ہے کرے گا قدرت سے اپنی پیدا وُہ شخص جس کا کیا ہے وعدہ می دوراں مثیل عیسی جو میری اُمت کا رہنما ہے سو ساری باتیں ہوئی ہیں پوری نہیں کوئی بھی رہی ادھوری دلوں میں اب بھی رہے جو دُوری تو اس میں اپنا قصور کیا ہے پڑا نعجب شور جا بجا ہے جو ہے وہ دنیا پہ ہی خدا ہے نہ دل میں خوف خدا رہا ہے نہ آنکھ میں ہی رہی کیا ہے می دوراں مثیل عیسی ، بجا ہے دُنیا میں جس کا ڈنکا خُدا سے ہے پا کے محکم آیا ، ملا اُسے منصب ھدی ہے ہے چاند سورج نے دی گواہی ، پڑی ہے طاعون کی تباہی بچائے ایسے سے پھر خُدا ہی ، جو اب بھی انکار کر رہا ہے وہ مطلع آبدار لکھوں ، کہ جس سے متاد کا ہو دل خوں معروف کی جاگہر پروؤں ، کہ مجھ کو کرنا ہی روا ہے 27