کلام محمود مع فرہنگ — Page 29
صبا ترا گر وہاں گذر ہو تو اتنا پیغام میرا دیکھو اگرچہ تکلیف ہو گی تجھ کو یہ کام یہ بھی ثواب کا ہے کہ اسے مثیل مسیح و عیسی ! انہوں سخت محتاج میں دُعا کا خُدا تری ہے قبول کرتا کہ تو اس اُمت کا ناخُدا ہے خُدا سے میری یہ کر شفاعت که علیم و نور وهدی کی دوکت مجھے بھی اب وہ کرے عنایت ، یہی مری اُس سے التجا ہے رہ خُدا میں ہی جاں فدا ہو، دل عشق احمد میں مبتلا ہو اسی پہ ہی میرا خاتمہ ہو ، یہی میرے دل کا مدعا ہے نہیں ہے محمود فکر اس کا ، کہ یہ اثر کس قدر کرے گا سخن کہ جو دل سے ہے نکلتا ، وہ دل میں ہی جا کے بیٹھتا ہے اخبار بدر جلد 6 - 21 فروری 1907 ء 29 لله