کلام محمود مع فرہنگ — Page 20
جب کہ وہ زلزلہ جس کا کہ ہوا ہے وعدہ ڈال دے گا تیرے آغداء کے گھروں میں پائم تب انھیں ہو گی خبر اور کہیں گے بہات ہم تو کرتے رہے ہیں اپنی ہی جانوں پر شم تیری سچائی کا دنیا میں بجے گا ڈنکا بادشاہوں کے ترے سامنے ہوں گے سنٹر ختم تیرے اغداء جو ہیں دوزخ میں جگہ پائیں گے پر جگہ تیرے مُریدوں کی تو ہے باغ ارم انتیجا ہے مری آخر میں یہ اے پیارے میستم حشر کے روز تو محمود کا بنیو بندم اخبار بدر - جلد 5 - 6 ستمبر 1906ء 20 20