کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 21

7 غصہ میں بھرا ہوا خُدا ہے جاگو ابھی فرصت دُعا ہے تم کہتے ہو آئن میں ہیں ہم ، اور منہ کھولے ہوئے کھڑی بلا ہے ڈرتی نہیں کچھ بھی تو خُدا سے اسے قوم ابیہ تجھ کو کیا ہوا ہے مامور خدا سے دشمنی ہے کیا اس کا ہی نام ارتقا ہے؟ گمراہ ہوئے ہو باز آؤ کیا عقل تمہاری کو ہوا ہے موسیٰ کے غلام تھے مسیحا ہاں اُن سے ہمارا کام کیا ہے اب رنہیر راہ کوئے دلبر والله غلام مصطفے ہے کس راہ سے ابنِ مریم آئے مدت ہوئی وہ تو مر چکا ہے اب اور کار انتکار چھوڑو آنا تھا جسے وہ تو آ چکا ہے جس کو کیا ہے خُدا نے مامور اس سے بھلا تم کو کیا گلہ ہے کیوں بھولے ہو دوستو ادھراؤ اک مردِ خُدا پکارتا ہے باز آؤ شرارتوں سے اپنی کچھ تم میں اگر بُوئے وفا ہے ورنہ ابھی غافلو اتمھارے آئے گا وہ آگے جو کیا ہے 21 21